امریکا کے میزائل ذخائر خطرے میں؟ ایران جنگ پر جنرل ڈین کین کا بڑا انکشاف

0
32
امریکا کے میزائل ذخائر خطرے میں؟ ایران جنگ پر جنرل ڈین کین کا بڑا انکشاف

واشنگٹن: امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں امریکی فوج کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر نمایاں حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جاری حملے روکنے کی ہدایت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کو کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ حملے عارضی طور پر معطل کیے گئے ہیں یا مستقل جنگ بندی کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا کہ اگر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ کیے گئے تو امریکی سینٹرل کمان کے پاس موجود دفاعی میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ ایران پر حملوں کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے ہیں اور ان کارروائیوں نے ایرانی قیادت کو داخلی طور پر زیادہ متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا نے عمانی حکام کے ایران کے دورے اور ممکنہ سفارتی کوششوں کے پیش نظر حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔ عمانی وفد جمعے کو ایران میں مذاکرات کے لیے پہنچا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور ان میں شدت لانے کا اختیار موجود ہے، تاہم ان کے بقول زیادہ مؤثر حکمت عملی ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوشش کرنا ہے۔

Leave a reply