
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
حکومت کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں ردوبدل ضروری تھا۔ تاہم اس فیصلے کے اثرات براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی مصنوعات اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔ کاروباری طبقہ اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بھی اس فیصلے کے معاشی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ اس اضافے کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں قیمتوں پر کس حد تک اثر پڑتا ہے اور حکومت مہنگائی کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔









