جمہوریت عوام کی یا طاقتور طبقے کی؟

جمہوریت عوام کی یا طاقتور طبقے کی؟

تحریر:عبداللہ

اگر جمہوریت میں عوام خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگیں تو کیا وہ واقعی جمہوریت رہ جاتی ہے؟

پاکستان میں آج سب سے بڑا بحران صرف مہنگائی، بے روزگاری یا سیاسی عدم استحکام نہیں، بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔ ایک ایسا بحران جس میں عوام کو محسوس ہونے لگا ہے کہ سیاست ان کی نمائندگی کے بجائے چند طاقتور طبقات کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔

انتخابات ہوتے ہیں، حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں، پارلیمان چلتی ہے، بجٹ پیش ہوتے ہیں، لیکن عام شہری کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ یہی وہ سوال ہے جو آج ہر گلی، ہر بازار اور ہر گھر میں سنائی دیتا ہے۔

پاکستان کی سیاست بتدریج عوامی سیاست سے نکل کر سرمایہ، طاقت اور اثر و رسوخ کی سیاست بنتی جا رہی ہے۔ جس کے پاس وسائل ہیں، اسی کی آواز بلند ہے، جبکہ کروڑوں غریب، مزدور، کسان، نوجوان اور متوسط طبقہ صرف وعدوں اور نعروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

سب سے زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ملک کی اکثریت آج بھی تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، مقامی انصاف، پبلک ٹرانسپورٹ اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ مگر سیاسی بحث کا محور اکثر اقتدار کی جنگ، سیاسی انتقام اور شخصیات کے گرد گھومتا رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ جب حکمرانی کا نظام صرف مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچائے اور کمزور طبقہ خود کو نظرانداز محسوس کرے تو بے اعتمادی، مایوسی اور ردعمل پیدا ہونا فطری امر ہے۔

اصل جمہوریت وہ ہے جس میں طاقت کا مرکز عوام ہوں، نہ کہ سرمایہ یا مخصوص اشرافیہ۔ ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد صرف انتخابات نہیں بلکہ مضبوط ادارے، شفاف احتساب، قانون کی بالادستی اور مساوی مواقع ہوتے ہیں۔ جہاں ادارے مضبوط ہوتے ہیں وہاں افراد نہیں بلکہ قانون حکمرانی کرتا ہے، اور یہی کمزور شہری کی سب سے بڑی طاقت بنتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں کے بجائے شخصیات پر انحصار نے حکمرانی کو کمزور کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا اعتماد مسلسل مجروح ہوا اور سیاسی تقسیم پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہوتی گئی۔

اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو سب سے پہلے بجٹ کی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ سرکاری وسائل کا رخ عوامی فلاح کی طرف موڑنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، روزگار، نوجوانوں کی مہارت، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور غربت کے خاتمے کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ صرف اعلانات نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات درکار ہیں جن کے اثرات عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر سکے۔

آج کی نوجوان نسل روزگار کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ریاست اور نوجوان کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی علامت بھی ہے۔ اگر ملک کے اندر باوقار روزگار، شفاف مواقع اور انصاف میسر نہ ہو تو ہجرت ایک خواب نہیں بلکہ مجبوری بن جاتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ عوام کو تقریروں سے نہیں بلکہ بہتر اسکول، معیاری اسپتال، محفوظ سڑکیں، سستا انصاف، صاف پانی، روزگار اور باعزت زندگی چاہیے۔

وقت آ گیا ہے کہ سیاست اقتدار کی کشمکش سے نکل کر عوامی خدمت کا نام بنے۔ کیونکہ جب تک غریب آدمی کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، تب تک نہ جمہوریت مضبوط ہوگی، نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ ہی سیاسی استحکام ممکن ہوگا۔

پاکستان کا مستقبل صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں بدلے گا، بلکہ حکمرانی کی سوچ بدلنے سے بدلے گا۔

Leave a reply