جدید دور کا سب سے بڑا المیہ: انسان ترقی یافتہ مگر غیر محفوظ

جدید دور کا سب سے بڑا المیہ: انسان ترقی یافتہ مگر غیر محفوظ

تحریر:محمد رشید

دنیا پہلے کبھی اتنی جدید نہیں تھی۔ مصنوعی ذہانت فیصلے کر رہی ہے، روبوٹس آپریشن کر رہے ہیں، چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطہ ممکن ہے، اور معلومات انگلی کی ایک جنبش پر دستیاب ہیں۔ لیکن حیرت انگیز سوال یہ ہے کہ جتنا انسان ترقی کر رہا ہے، اتنا ہی خوفزدہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
پاکستان میں یہ سوال صرف ایک فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ یہاں صبح گھر سے نکلنے والا شخص صرف اپنی منزل کی فکر نہیں کرتا، بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ شام کو بحفاظت واپس آ سکے گا یا نہیں۔
سب سے بڑا خوف: خالی جیب
جب مہنگائی ہر ماہ نئے ریکارڈ قائم کرے، تنخواہیں وہیں کی وہیں رہ جائیں، اور بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگلنے لگے تو خوف صرف مالی نہیں رہتا، بلکہ نفسیاتی بحران بن جاتا ہے۔
ایک باپ جب اپنے بچے کی فیس، دوائی یا راشن کا انتظام نہ کر سکے تو وہ خود کو صرف غریب نہیں بلکہ غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی احساس معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور جرائم کے امکانات کو بھی بڑھاتا ہے۔
انصاف میں تاخیر… خوف میں اضافہ
قانون کی کتابوں میں سب برابر ہیں، مگر عملی زندگی میں اکثر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انصاف تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
جب انصاف مہینوں نہیں بلکہ برسوں تک انتظار کروائے، یا اثر و رسوخ فیصلوں پر غالب آ جائے، تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ جہاں انصاف کمزور ہو، وہاں خوف طاقتور ہو جاتا ہے۔
گھر سے نکلتے وقت سب سے بڑا سوال
کیا موبائل محفوظ رہے گا؟
کیا گاڑی چھن تو نہیں جائے گی؟
کیا راستے میں کوئی حادثہ یا واردات پیش تو نہیں آئے گی؟
پاکستان کے کئی شہروں میں یہ سوالات روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتیاں، اغوا اور دیگر جرائم صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد پر حملہ ہیں۔
سوشل میڈیا… سہولت بھی، خطرہ بھی
ڈیجیٹل دنیا نے زندگی آسان ضرور بنائی، مگر اس کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھل گیا۔
جعلی خبریں، آن لائن فراڈ، ہیکنگ، سائبر بلیک میلنگ، شناخت کی چوری اور ذاتی معلومات کا غلط استعمال اب ہر موبائل صارف کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ خصوصاً نوجوان، خواتین اور کاروباری افراد اس کا زیادہ شکار بن رہے ہیں۔
موسم بھی اب خوف پیدا کرتا ہے
ایک وقت تھا جب بارش خوشی کی علامت ہوتی تھی، مگر اب بارش کے ساتھ سیلاب، گرمی کے ساتھ ہیٹ ویو، اور سردیوں کے ساتھ دھند اور آلودگی کا خوف جڑ گیا ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ قدرتی آفات اب صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ معیشت، صحت، تعلیم اور روزگار کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔
تعلیم ہے… مگر تربیت؟
ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر برداشت کم ہو رہی ہے۔
علم میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر اخلاقی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔
اگر معاشرے میں قانون کا احترام، دیانت داری، رواداری اور دوسروں کے حقوق کا احساس ختم ہونے لگے تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی انسان کو محفوظ نہیں بنا سکتی۔
خاموش بحران: ذہنی دباؤ
آج ہزاروں لوگ بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے خوف، بے چینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
مستقبل کی غیر یقینی، ملازمت کا عدم استحکام، مسلسل معاشی دباؤ اور سماجی مقابلہ بازی نے ذہنی صحت کو ایک بڑے قومی مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔
انسان کو صرف اچھی آمدنی نہیں چاہیے، بلکہ ذہنی سکون، سماجی اعتماد اور محفوظ مستقبل بھی چاہیے۔
امید ابھی باقی ہے
مایوسی کے اس ماحول میں پاکستان کی ایک خوبصورت تصویر بھی موجود ہے۔
قدرتی آفات میں رضاکاروں کی خدمات، فلاحی اداروں کی سرگرمیاں، نوجوانوں کا جذبہ، اور مشکل وقت میں عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ امید ابھی زندہ ہے۔
اگر یہی اجتماعی شعور قانون کی حکمرانی، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ جڑ جائے تو پاکستان ایک زیادہ محفوظ معاشرہ بن سکتا ہے۔
اب کرنا کیا ہوگا؟
ریاست کو معاشی استحکام، معیاری تعلیم، مؤثر صحت کے نظام، تیز اور شفاف انصاف، جدید پولیسنگ، سائبر سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح بنانا ہوگی۔
اسی کے ساتھ ہر شہری کو بھی قانون کی پابندی، ایمانداری، برداشت، اختلافِ رائے کے احترام اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
آخری سوال… اور سب سے اہم سوال
کیا ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سڑکوں اور مصنوعی ذہانت کا نام ہے؟
یا پھر اصل ترقی وہ ہے جب ایک ماں اپنے بچے کو بے خوف ہو کر اسکول بھیجے، ایک مزدور سکون سے روزگار کمائے، ایک نوجوان مستقبل سے پُرامید ہو، اور ہر شہری شام کو بحفاظت اپنے گھر واپس پہنچے؟
جب تک پاکستان میں ہر فرد کو جان، مال، عزت، انصاف اور مستقبل کا حقیقی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، تب تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔
ایک مضبوط، منصف اور جوابدہ ریاست ہی وہ بنیاد ہے جس پر محفوظ، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ممکن ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس منزل کی طرف بڑھنے کے لیے واقعی تیار ہیں؟

Leave a reply