مہنگائی کے بم یا جنگ کے بہانے؟ عوام آخر کب تک قربانی دیں گے؟

مہنگائی کے بم یا جنگ کے بہانے؟ عوام آخر کب تک قربانی دیں گے؟

تحریر:محمد رشید

ایران پر امریکی حملہ ہوتا ہے، جواب میں ایران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ہلتی ہیں، اور چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان کے عوام پر ایک اور “پٹرول بم” گرا دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر بین الاقوامی بحران کا واحد علاج پاکستانی عوام کی جیب پر حملہ ہے؟

ہر بار یہی داستان دہرائی جاتی ہے۔ جب دنیا میں جنگ چھڑتی ہے تو حکومتیں عوام کو بتاتی ہیں کہ پٹرول مہنگا کرنا مجبوری ہے۔ لیکن جب جنگ ختم ہو جاتی ہے، عالمی قیمتیں نیچے آ جاتی ہیں، تب عوام کو ریلیف دینے میں ہفتے بلکہ مہینے کیوں لگ جاتے ہیں؟ کیا عالمی منڈی کی رفتار صرف مہنگائی بڑھانے کے وقت تیز ہوتی ہے؟

پاکستان میں عام آدمی پہلے ہی مہنگی بجلی، بے روزگاری، بڑھتے ٹیکس، کم ہوتی آمدنی اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمت میں ہر اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ آٹا، دال، دودھ، سبزی، کرایہ، ادویات اور ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عوام سے قربانی مانگنے والے خود قربانی دینے کو تیار نہیں۔ ایک طرف عام شہری بجلی کے چند یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر ہزاروں روپے اضافی بل ادا کرنے پر مجبور ہے، دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے کی تنخواہوں، الاؤنسز، سرکاری گاڑیوں، بلیو پاسپورٹس اور دیگر سہولتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

اگر واقعی ملکی معیشت مشکل میں ہے تو کیا یہ مشکل صرف غریب کے لیے ہے؟

حکومت کا مؤقف ہوتا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس قومی خزانے کی ضرورت ہیں، لیکن عوام کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب قومی خزانہ بھرنے کی بات آتی ہے تو بوجھ ہمیشہ متوسط اور غریب طبقے پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ کیا سرکاری اخراجات میں کمی، غیر ضروری مراعات کا خاتمہ اور حکومتی فضول خرچی روکنا کبھی ترجیح نہیں بنے گا؟

گزشتہ برسوں میں ایسے کئی افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے جن میں معاشی دباؤ، بھاری بجلی کے بلوں یا مالی مشکلات سے تنگ آ کر لوگوں نے انتہائی قدم اٹھائے۔ اگرچہ ہر ایسے واقعے کی وجوہات الگ ہو سکتی ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بڑھتا ہوا معاشی دباؤ لاکھوں خاندانوں کی ذہنی، سماجی اور مالی زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔

عوام یہ نہیں چاہتے کہ حکومت عالمی حالات کو نظر انداز کرے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ فیصلوں میں انصاف ہو، قربانی سب دیں، اور ریلیف بھی صرف اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عام آدمی کی زندگی میں محسوس ہو۔

ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول یا سرکاری مراعات نہیں ہوتیں بلکہ وہ عوام ہوتے ہیں جو ٹیکس دیتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور مشکل وقت میں ملک کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ اگر انہی عوام کی قوت برداشت ختم ہو جائے تو کسی بھی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے۔

سوال اب بھی وہی ہے:

کیا ہر عالمی بحران کا بل صرف پاکستانی عوام ہی ادا کریں گے، یا کبھی حکمران طبقہ بھی اپنی مراعات میں کمی لا کر عملی مثال قائم کرے گا؟

Leave a reply