‘انویسٹ پاک’ کیا ہے، اور اس سے آپ کیسے منافع کما سکتے ہیں؟

0
23
'انویسٹ پاک' کیا ہے، اور اس سے آپ کیسے منافع کما سکتے ہیں؟

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عام شہریوں، اوورسیز پاکستانیوں اور کاروباری اداروں کے لیے “انویسٹ پاک” کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے اب صرف 5 ہزار روپے سے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز (سرکاری بانڈز) میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔

اس اقدام کا مقصد حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کو بینکوں اور بڑے مالیاتی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہریوں کی دسترس میں لانا ہے۔ صارفین پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے رجسٹریشن، آئی پی ایس (Investor Portfolio Securities) اکاؤنٹ کھولنے اور سرمایہ کاری کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

حکومتی سیکیورٹیز کیا ہیں؟

حکومتی سیکیورٹیز ایسے مالیاتی آلات ہیں جن کے ذریعے حکومت سرمایہ کاروں سے ایک مخصوص مدت کے لیے رقم حاصل کرتی ہے۔ اس کے بدلے حکومت سرمایہ کار کو مقررہ شرائط کے مطابق منافع دیتی ہے اور مدت مکمل ہونے پر اصل سرمایہ واپس کرتی ہے۔ چونکہ ان کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے انہیں نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔

کون سرمایہ کاری کر سکتا ہے؟

اس پلیٹ فارم سے درج ذیل افراد اور ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:

– پاکستانی شہری
– مشترکہ بینک اکاؤنٹ رکھنے والے افراد
– کمپنیاں اور کارپوریٹ ادارے
– روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانی

شرط یہ ہے کہ درخواست گزار کا کسی بینک میں اکاؤنٹ موجود ہو اور وہ انویسٹ پاک پورٹل پر رجسٹریشن مکمل کرے۔

رجسٹریشن کا طریقہ

رجسٹریشن کے لیے صارف کو:

– پورٹل یا موبائل ایپ پر اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔
– شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر اور ای میل درج کرنا ہوگی۔
– اپنے بینک اکاؤنٹ کا 24 ہندسوں پر مشتمل آئی بین (IBAN) فراہم کرنا ہوگا۔
– بینک کی تصدیق کے بعد موصول ہونے والا ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) درج کرکے اکاؤنٹ فعال کرنا ہوگا۔

اگر صارف کے پاس پہلے سے آئی پی ایس اکاؤنٹ موجود نہیں ہے تو وہ اسی پورٹل کے ذریعے آن لائن اس کے لیے بھی درخواست دے سکتا ہے۔

کن سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری ممکن ہے؟

انویسٹ پاک پلیٹ فارم پر سرمایہ کار تین اہم اقسام کی حکومتی سیکیورٹیز خرید سکتے ہیں:

مارکیٹ ٹریژری بلز (MTBs):
یہ مختصر مدت (3، 6 یا 12 ماہ) کے بانڈز ہوتے ہیں، جو رعایتی قیمت پر خریدے جاتے ہیں اور میعاد پوری ہونے پر مکمل مالیت ادا کی جاتی ہے۔

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs):
یہ درمیانی اور طویل مدت (2 سے 10 سال یا اس سے زائد) کے بانڈز ہیں، جن پر مقررہ وقفوں سے منافع ادا کیا جاتا ہے جبکہ مدت مکمل ہونے پر اصل سرمایہ واپس مل جاتا ہے۔ ان میں فکسڈ اور فلوٹنگ ریٹ دونوں آپشن موجود ہیں۔

اجارہ سکوک:
یہ شریعت کے مطابق سرمایہ کاری کا متبادل ہے، جس میں سرمایہ کار سود کے بجائے حکومتی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں حصہ وصول کرتے ہیں۔

منافع کیسے ملے گا؟

سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع خودکار طریقے سے سرمایہ کار کے رجسٹرڈ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

– ٹریژری بلز میں منافع خریداری اور میچورٹی ویلیو کے فرق کی صورت میں حاصل ہوگا۔
– پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز پر ہر 3 یا 6 ماہ بعد کوپن پیمنٹ کی صورت میں منافع دیا جائے گا۔
– میعاد مکمل ہونے پر اصل سرمایہ بھی واپس کر دیا جائے گا۔

نمایاں سہولیات

انویسٹ پاک پورٹل میں متعدد جدید سہولیات شامل کی گئی ہیں، جن میں:

– کم از کم 5 ہزار روپے سے سرمایہ کاری
– مکمل آن لائن رجسٹریشن
– آئی پی ایس اکاؤنٹ کی ڈیجیٹل اوپننگ
– فنانشل کیلکولیٹر کے ذریعے متوقع منافع کا تخمینہ
– ریئل ٹائم پورٹ فولیو ٹریکنگ
– سیکنڈری مارکیٹ میں میعاد سے پہلے سیکیورٹیز فروخت کرنے کی سہولت

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام حکومتی سرمایہ کاری تک عوام کی رسائی بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار عوامی آگاہی، صارفین کے اعتماد اور پلیٹ فارم کی مؤثر کارکردگی پر ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومتی بانڈز نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں، لیکن ہر سرمایہ کاری کی طرح ان میں بھی مارکیٹ اور شرحِ منافع سے متعلق کچھ خطرات موجود رہتے ہیں، اس لیے سرمایہ کاری سے پہلے اپنی مالی ضروریات اور اہداف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

Leave a reply