چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر پر پی ایم اے کی تشویش

0
12
چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر پر پی ایم اے کی تشویش

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مریض خواتین کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

پی ایم اے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے بعد علاج شروع ہونے میں اوسطاً 111 روز لگ جاتے ہیں، جس کے باعث بیماری کے پھیلنے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور علاج کا نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔ اس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری سے صحت یابی کی شرح 85 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔

پی ایم اے نے کہا کہ بنیادی مراکزِ صحت میں اسکریننگ کی سہولیات محدود ہیں، جبکہ آگاہی کی کمی، سماجی رکاوٹیں، مہنگا علاج اور معاشی مشکلات بھی بروقت علاج میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تحصیل اور ضلعی سطح پر مفت بریسٹ کینسر اسکریننگ مراکز قائم کیے جائیں، سرکاری اسپتالوں میں ریڈیو تھراپی مشینوں اور کیموتھراپی ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اور ملک بھر میں چھاتی کے سرطان سے متعلق عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج کو فروغ دیا جا سکے۔

Leave a reply