ٹرمپ کے ایک بیان نے عالمی منڈی ہلا دی، تیل کی قیمتوں میں بڑا اچھال

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے خطے کی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ امن کوششوں کے حوالے سے سخت بیان دیا، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی مختلف اقسام مہنگی ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھنے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کی اطلاعات کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہوئیں اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ دوسری جانب محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث امریکی ڈالر اور سرکاری بانڈز کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا اثر عام صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔
عالمی کاروباری حلقے اب امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی سے مارکیٹوں میں استحکام آ سکتا ہے، جبکہ تنازع بڑھنے کی صورت میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔









