
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنا صرف ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر فرد کی مجموعی صحت، توانائی اور ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ متوازن بلڈ شوگر نہ صرف تھکن اور سستی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ بار بار بھوک لگنے اور میٹھا کھانے کی خواہش پر بھی قابو پانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خون میں شوگر کی سطح پر خوراک، کھانے کے اوقات، جسمانی سرگرمی، نیند، ذہنی دباؤ اور پانی کے استعمال جیسے عوامل نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔
متوازن غذا کو ترجیح دیں
صحت مند غذا بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ کھانے کے دوران پہلے فائبر سے بھرپور سبزیاں، اس کے بعد پروٹین اور صحت بخش چکنائی، جبکہ آخر میں کاربوہائیڈریٹس کھانے سے شوگر کے تیزی سے بڑھنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ دالیں، چنے، بادام، اخروٹ اور زیتون کا تیل جیسی غذائیں ہاضمے کے عمل کو متوازن رکھنے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کم گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں، جیسے جو، دلیہ، براؤن چاول اور بغیر نشاستہ والی سبزیاں استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔
کھانے کے اوقات کا خیال رکھیں
ماہرین کے مطابق صبح بیدار ہونے کے تقریباً دو گھنٹے کے اندر ناشتہ کرنا دن بھر توانائی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح ہر تین سے چار گھنٹے بعد ہلکی اور متوازن غذا لینے سے شوگر کی سطح میں اچانک کمی یا زیادتی سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر پھل یا دیگر کاربوہائیڈریٹس کھائے جائیں تو ان کے ساتھ بادام، پنیر یا کسی پروٹین والی غذا کا استعمال بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔
باقاعدہ ورزش بھی ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد تقریباً 10 منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ جسمانی سرگرمی اور دو سے تین دن ہلکی طاقت بڑھانے والی ورزشیں انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہیں۔
نیند، پانی اور ذہنی سکون پر توجہ دیں
روزانہ سات سے نو گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب مقدار میں پانی پینا اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گہری سانسوں کی مشق یا مراقبہ بھی بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ خصوصاً ذیابیطس کے مریض اپنے بلڈ شوگر لیول کی باقاعدگی سے جانچ کرتے رہیں تاکہ مختلف غذاؤں کے اثرات کو سمجھ سکیں۔ کسی بھی نئی غذا، ورزش یا روزمرہ معمول میں بڑی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔









