کیلا اور انگور کھانے والے افراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش کیوں؟

0
5
کیلا اور انگور کھانے والے افراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش کیوں؟

مچھروں کو دنیا کے خطرناک ترین جانداروں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملیریا، ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے ذریعے ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان سے بچاؤ کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان سے مکمل طور پر بچنا آسان نہیں ہوتا۔
حالیہ معلومات اور مختلف سائنسی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھر انسانوں کو مختلف عوامل کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہیں۔ ان میں جسمانی بو، خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور یہاں تک کہ لباس اور خوراک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق کچھ غذائیں انسان کو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کیلے کھانے والے افراد کے قریب مچھروں کی موجودگی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح انگور کے استعمال کو بھی بعض صورتوں میں مچھروں کی کشش سے جوڑا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی سائنسی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھر پہلے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسمانی بو کو محسوس کرتے ہیں، اس کے بعد وہ قریب موجود انسان کو مختلف رنگوں کی بنیاد پر بھی شناخت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سرخ، نارنجی اور گہرے رنگ مچھروں کو زیادہ متوجہ کر سکتے ہیں، جبکہ سیاہ رنگ حرارت جذب کرنے کی وجہ سے ان کی توجہ کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے برعکس کچھ رنگ مچھروں کو نسبتاً کم متوجہ کرتے ہیں جن میں نیلا، سبز، سفید اور ہلکے جامنی شیڈز شامل ہیں، تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صرف رنگ یا لباس کے ذریعے مکمل تحفظ ممکن نہیں۔
ماہرین مجموعی طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے صفائی، مچھر مار اقدامات اور احتیاطی تدابیر کو اپنانا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔

Leave a reply