
کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بعد سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر اضافہ نہیں ہوا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بجائے سرپلس میں رہا، جبکہ آخری مہینے کے اعدادوشمار مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق پورے مالی سال کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 5.5 ارب ڈالر اضافے کے بعد 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے میں پاکستان نے اپنے تقریباً 5 ارب ڈالر کے واجبات بھی کم کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار برس کے دوران بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً اسی سطح پر برقرار رہا، جبکہ درآمدات کے لیے دستیاب زرمبادلہ کے ذخائر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں، جس سے ملک کی معاشی درجہ بندی (ریٹنگ) بہتر ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
جمیل احمد کے مطابق 2015 سے 2022 کے درمیان پاکستان کا بیرونی قرض اوسطاً 6 ارب ڈالر سالانہ بڑھ رہا تھا، تاہم مالی سال 2022 کے بعد اس میں اضافہ نہیں ہوا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، تاہم برآمدات میں نمایاں اضافے تک معیشت کا انحصار ترسیلاتِ زر پر برقرار رہے گا۔









