
اسلام آباد: سوشل میڈیا پر معروف ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی اور ان کی اہلیہ زینب علی کے درمیان مبینہ طلاق اور جھگڑے کا معاملہ شدید بحث کا باعث بن گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک لائیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر علی حیدرآبادی کو اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے سنا گیا کہ وہ اب اپنی اہلیہ سے دوبارہ ملاقات نہیں کریں گے، جبکہ اسی دوران خاتون ان کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دیں اور اس کے بعد ویڈیو اچانک ختم ہو گئی۔
بعد ازاں زینب علی کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ روتی ہوئی نظر آئیں اور ان کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں شوہر پر گزشتہ چند برسوں سے مبینہ طور پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جھگڑے میں ان کی انگلی بھی ٹوٹ گئی ہے اور انہوں نے حکام سے مدد کی اپیل کی۔
دوسری جانب علی حیدرآبادی نے ایک ویڈیو بیان میں ان الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر کہا کہ انہوں نے نہ تو اپنی اہلیہ پر ہاتھ اٹھایا اور نہ ہی کسی قسم کا جسمانی نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ گھریلو تنازع اور غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے، اور ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں۔
بعد میں زینب علی کی ایک اور ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی جس میں انہوں نے شوہر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا اور ان کے مطابق انہیں مبینہ طور پر گھریلو دباؤ اور مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کئی سالوں سے مسائل جاری تھے اور ان کی زندگی متاثر ہوئی۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر مختلف آرا اور بحث کو جنم دے رہا ہے، تاہم اب تک دونوں فریقین کی جانب سے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔









