
امریکا کی یونیورسٹی آف منیسوٹا کے سائنس دانوں نے ایک اہم سائنسی پیش رفت میں لیبارٹری میں ایسے ابتدائی خلیے کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے جو قدرتی خلیوں کی کچھ بنیادی خصوصیات کی نقل کر سکتا ہے، جیسے خوراک استعمال کرنا، بڑھنا اور تقسیم ہونا۔
تحقیق کے مطابق پروفیسر کیٹ ایڈامالا اور ان کی ٹیم نے مختلف کیمیکل اجزا کو مرحلہ وار جوڑ کر ایک ایسا نظام بنایا ہے جو بیکٹیریا جیسا دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر مصنوعی ہے اور کسی جاندار سے حاصل نہیں کیا گیا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس خلیے میں محدود تعداد میں مالیکیولز شامل ہیں، جبکہ قدرتی خلیے لاکھوں اجزا پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ مصنوعی نظام قدرتی خلیوں کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ ایک سادہ ماڈل ہے جس کا مقصد زندگی کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا ہے۔
محققین کے مطابق یہ خلیہ مخصوص حالات میں تقریباً 12 گھنٹے میں تقسیم ہو سکتا ہے، تاہم اس کی رفتار قدرتی بیکٹیریا سے کم ہے۔ اس میں وہ مکمل اندرونی ڈھانچہ بھی موجود نہیں جو قدرتی خلیوں میں پایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر لیبارٹری کے ماحول اور فراہم کردہ غذائی اجزا پر منحصر ہے، اور باہر کے ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتا۔
تحقیق میں شامل سائنس دانوں کے مطابق یہ تجربہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ زندگی کی ابتدائی شکلیں کیسے وجود میں آئیں، اور مستقبل میں اس سے طبی تحقیق اور نئی ادویات کی تیاری میں بھی رہنمائی مل سکتی ہے۔
غیر شامل ماہرین نے اس تحقیق کو مصنوعی خلیات کے میدان میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی یہ مکمل زندگی نہیں بلکہ ایک ابتدائی سائنسی ماڈل ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے بیماریوں کے علاج، ماحول کی صفائی اور مختلف کیمیکل مصنوعات کی تیاری جیسے شعبوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر غور بھی ضروری ہے۔









