کھجلی کو کھجانے سے مسئلہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟

0
7
کھجلی کو کھجانے سے مسئلہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے اس عام خیال کی سائنسی وجہ واضح کی ہے کہ مچھر یا کیڑے کے کاٹنے پر خارش کرنے سے نقصان بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق وقتی طور پر کھجانے سے آرام ضرور ملتا ہے، لیکن یہی عمل جسم میں سوزش کو بڑھا دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جلد کو بار بار کھجا جاتا ہے تو اعصابی نظام ایک ایسا کیمیکل خارج کرتا ہے جو خارش پیدا کرنے والے خلیوں کو مزید متحرک کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خارش اور سوجن کم ہونے کے بجائے زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہے۔
ماہرین نے جانوروں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ جن جانوروں کو خارش کرنے سے روکا گیا، ان کے متاثرہ حصوں میں سوجن اور جلن بہت کم رہی، جبکہ کھجانے والے گروپ میں علامات واضح طور پر زیادہ تھیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جسم میں موجود بعض خلیے، جو الرجی اور سوزش کے ردعمل میں کردار ادا کرتے ہیں، کھجانے کے عمل سے مزید فعال ہو جاتے ہیں، جس سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو خارش کو برقرار رکھتا ہے۔
اگرچہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کھجانے کا ایک معمولی فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جلد سے کچھ بیرونی ذرات ہٹا دیتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اس کا نقصان زیادہ دیکھا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق مچھر یا کیڑے کے کاٹنے سے ہونے والی خارش کو کم کرنے کے لیے سادہ طریقے زیادہ مؤثر ہیں، جیسے ٹھنڈی چیز کا استعمال، کیلامائن لوشن یا اینٹی الرجی کریمیں۔ کچھ پودینے یا مینتھول والی کریمیں بھی جلد کو وقتی سکون دے کر خارش کے احساس کو کم کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ خارش کے باوجود اسے بار بار نہ کھجانا بہتر ہے کیونکہ یہی عمل مسئلے کو لمبا اور زیادہ تکلیف دہ بنا دیتا ہے۔

Leave a reply