35سال بعد بچھڑا ہوا بہرا شخص خاندان سے جا ملا، محسن خاندان کا بھی ساتھ نبھانے کا عزم

0
0
35سال بعد بچھڑا ہوا بہرا شخص خاندان سے جا ملا، محسن خاندان کا بھی ساتھ نبھانے کا عزم

پیدائشی طور پر بہرے اور قوتِ گویائی سے محروم ایک شخص 35 سال بعد اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ جذباتی واقعہ اس وقت ممکن ہوا جب سوشل میڈیا، مسلسل تلاش اور ڈی این اے ٹیسٹ نے برسوں پرانی جدائی کا خاتمہ کردیا۔

رپورٹس کے مطابق، لائی زی نامی شخص 1991 میں بچپن کے دوران دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک ٹرین میں چھپ گیا تھا۔ وہ ایک نشست کے نیچے سو گیا اور جب آنکھ کھلی تو خود کو ایک اجنبی شہر میں پایا۔ سماعت اور گفتگو سے محرومی کے باعث وہ اپنی شناخت یا گھر کا پتہ کسی کو نہ بتا سکا اور کچھ عرصہ ریلوے اسٹیشن کے قریب بے گھر بچے کے طور پر زندگی گزارتا رہا۔

بعد ازاں ایک خاتون نے اس کی مدد کی اور اسے لکھنا سکھایا۔ چند سال بعد خاتون کے دوسرے شہر منتقل ہونے پر ایک مقامی ریسٹورنٹ کے مالک، ہونگ شینگ شیان، نے لائی زی کو پناہ دی، کھانا فراہم کیا اور ملازمت بھی دلوائی۔ بعد میں ریسٹورنٹ بند ہونے کے باوجود ہونگ اور ان کی اہلیہ نے کئی دہائیوں تک اس کی کفالت جاری رکھی، تعلیم دلوائی اور اپنے خاندان کے فرد کی طرح اس کا خیال رکھا۔

اس دوران لائی زی نے اپنے اصل خاندان کی تلاش کبھی نہیں چھوڑی۔ وہ سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرتا رہا، مختلف علاقوں کا سفر کیا اور پولیس سمیت دیگر ذرائع سے بھی مدد لینے کی کوشش کرتا رہا۔ دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ بھی برسوں تک اس کی تلاش میں مصروف رہے۔

بالآخر لائی زی کے بڑے بھائی، جو خود بھی بہرے ہیں، نے ایک سوشل میڈیا چیٹ گروپ میں اس کا پیغام دیکھا۔ لائی زی بچپن سے اپنا نام منفرد انداز میں لکھتا تھا، جس کی بدولت بھائی کو شبہ ہوا کہ یہ اسی کا بچھڑا ہوا بھائی ہے۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان رابطہ قائم ہوا اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کے رشتے کی تصدیق ہوگئی۔

خاندان کے افراد شینزن پہنچے اور برسوں بعد لائی زی سے ملاقات کی۔ انہوں نے ہونگ شینگ اور ان کی اہلیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک لائی زی کی دیکھ بھال کی۔

لائی زی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی خاندان کے ساتھ ساتھ ان محسن میاں بیوی کا بھی خیال رکھے گا، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں اسے سہارا دیا۔

Leave a reply