
پاکستان میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ سونا 2,300 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 28 ہزار 936 روپے کی سطح پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت بھی تقریباً 2 ہزار روپے کم ہو گئی۔
یہ کمی صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخ نیچے آئے ہیں۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا 23 ڈالر کی کمی کے بعد 4,065 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 69 روپے سستی ہو گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجوہات عالمی معاشی حالات، بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب و رسد کا توازن، اور امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہیں۔ چونکہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی نرخوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں معمولی تبدیلی بھی مقامی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔
سرمایہ کاری کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک معمول کی بات ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو عالمی معاشی صورتحال، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور کرنسی مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
مختصراً، سونے کی حالیہ قیمتوں میں کمی خریداروں کے لیے کسی حد تک ریلیف ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے یہ مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے اور محتاط فیصلے کرنے کا اہم موقع ہے۔









