امریکی حملے کے بعد ایران کا بندرگاہ کو محفوظ قرار دینے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے باوجود جنوبی علاقے میں واقع سریک بندرگاہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بندرگاہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران دھماکوں کی آوازیں ضرور سنائی دیں، تاہم بندرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں اور انفراسٹرکچر یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے یہ کارروائی ایک روز قبل ایک مال بردار جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے ردعمل میں کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے فوجی مراکز، ڈرون اور میزائل گوداموں سمیت ساحلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ان حملوں کو امن معاہدے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا پر سفارتی وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے انتظام سے متعلق اپنے مؤقف پر وہ قائم ہے۔
امریکا کی جانب سے حملوں کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔








