گھر میں آم پکانے کے آسان اور قدرتی طریقے — کیمیکلز سے بچاؤ کا بہتر حل

آم کا سیزن اپنے عروج پر ہے اور یہ میٹھا، رسیلا پھل بچوں اور بڑوں دونوں میں بے حد مقبول ہے۔ تاہم مارکیٹ میں اکثر ایسے آم بھی دستیاب ہوتے ہیں جو مکمل طور پر پکے نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے عموماً کچے حالت میں توڑا جاتا ہے۔ بعض اوقات انہیں جلدی پکانے کے لیے غیر قدرتی طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے صارفین اب زیادہ تر گھر پر قدرتی طریقوں سے آم پکانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قدرتی طور پر پکا ہوا آم نہ صرف بہتر ذائقہ دیتا ہے بلکہ اس کی خوشبو بھی زیادہ تیز اور خوشگوار ہوتی ہے۔ پکے ہوئے آم کی ایک واضح نشانی یہ ہے کہ اس کے ڈنڈی والے حصے سے ہلکی میٹھی خوشبو آنے لگتی ہے، جبکہ نرمی بھی بڑھ جاتی ہے۔ تاہم آم کو زیادہ زور سے دبانا نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے پھل خراب ہو جاتا ہے۔
گھر میں آم پکانے کے کئی آسان طریقے موجود ہیں۔ ایک عام طریقہ یہ ہے کہ کچے آموں کو کاغذی تھیلے میں رکھ کر بند کر دیا جائے۔ اس عمل سے پھل اپنی قدرتی گیس (ایتھلین) کو محفوظ رکھتا ہے اور دو سے چار دن میں پک جاتا ہے۔
ایک اور روایتی طریقہ یہ ہے کہ آموں کو کچے چاولوں کے درمیان کسی ڈبے میں رکھ دیا جائے۔ چاولوں کی ہلکی حرارت اور ماحول آم کو جلد پکنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے یہ دو سے تین دن میں تیار ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح آموں کو اخبار میں لپیٹ کر کسی گرم اور خشک جگہ پر رکھنا بھی ایک آزمودہ طریقہ ہے۔ اس عمل سے آم آہستہ آہستہ اور یکساں طور پر پک جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ کچے آموں کو پکے ہوئے پھلوں جیسے کیلے کے ساتھ رکھنے سے بھی پکنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے، کیونکہ پکے پھل قدرتی طور پر ایسی گیس خارج کرتے ہیں جو دوسرے پھلوں کو پکنے میں مدد دیتی ہے۔
اگر کوئی خاص طریقہ استعمال نہ کیا جائے تو صرف آموں کو عام درجہ حرارت پر گھر کے کسی گرم اور ہوادار کونے میں رکھ دینا بھی کافی ہوتا ہے، اور یہ چند دنوں میں قدرتی طور پر پک جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی طریقوں سے پکے ہوئے آم نہ صرف محفوظ ہوتے ہیں بلکہ ان کا ذائقہ بھی زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کیمیکلز سے بچتے ہوئے گھریلو اور قدرتی طریقوں کو اپنایا جائے تاکہ آم کے اصل ذائقے سے بھرپور لطف اٹھایا جا سکے۔








