
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے اہم معاشی اہداف اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے، جبکہ پنجاب کی نمائندگی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کی۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی منظوری دے دی ہے، جس کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کا قومی اقتصادی سروے کل دوپہر دو بجے کے بعد جاری کیا جائے گا، جس میں 2025-26 کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے کئی اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں تقریباً 3.7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار توقعات سے کم رہنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فی کس آمدنی کا سالانہ ہدف بھی مکمل نہ ہو سکا۔ رواں مالی سال کے لیے فی کس آمدنی کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے مقرر تھا، تاہم اس کے تقریباً 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب ڈالر کے حساب سے فی کس آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 1901 ڈالر تک پہنچ گئی۔
معاشی جائزے کے مطابق زرعی اور صنعتی شعبے بھی اپنے مقررہ اہداف حاصل نہ کر سکے۔ زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 4.3 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.51 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ خدمات کے شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور اس کی ترقی 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
افراطِ زر کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اوسط مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں گیارہ ماہ کے دوران 7 فیصد رہی، جبکہ مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔









