
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) مل کر صوبائی حکومت تشکیل دے سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اختیارات اور عہدوں کی تقسیم سے متعلق ابتدائی مشاورت ہو رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کا منصب پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے گا جبکہ گورنر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دیا جا سکتا ہے۔ کابینہ میں نمائندگی کے لیے بھی ایک متفقہ فارمولے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے سیاسی اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج اور آزاد کشمیر سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی شخصیات اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ سے متعلق معاملات پر بھی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور متعدد تجاویز پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے، جس سے پارلیمانی تعاون کے امکانات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کی بیشتر نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نو نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ آزاد امیدواروں نے بھی قابلِ ذکر کامیابی حاصل کرتے ہوئے سات نشستیں جیت لی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) چار نشستوں پر کامیاب رہی ہے جبکہ مجلس وحدت مسلمین ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق باقی ماندہ نشستوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کے عمل اور ممکنہ اتحادوں کی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔









