سورج سے آنے والے طاقتور شمسی طوفان کا امکان، جی3 جیو میگنیٹک الرٹ جاری

0
11
سورج سے آنے والے طاقتور شمسی طوفان کا امکان، جی3 جیو میگنیٹک الرٹ جاری

خلائی موسم کی نگرانی کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سورج سے خارج ہونے والا ایک تیز رفتار شمسی مادہ (کورونل ماس ایجیکشن) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث آنے والے وقت میں معتدل سے شدید نوعیت کے جیو میگنیٹک اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر G3 درجے کا جیو میگنیٹک طوفان کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں سورج کی سطح پر سرگرمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 6 جون 2026 کے قریب ایک فعال شمسی خطے سے درمیانے درجے کا سولر فلیئر خارج ہوا، جس کے ساتھ گرم مقناطیسی پلازما خلا میں خارج ہوا۔ یہ مادہ انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے زمین کے قریب پہنچ رہا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ شمسی مواد دراصل سورج کے اندر موجود مقناطیسی توانائی کے اچانک ٹوٹنے اور دوبارہ ترتیب پانے کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے۔ اس عمل میں بعض اوقات سورج کی سطح پر موجود انتہائی گرم مگر نسبتاً گھنے گیسوں کے بڑے بادل خلا میں نکل جاتے ہیں۔

جب یہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو زمین کے بالائی ماحول میں توانائی کا تبادلہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جیو میگنیٹک طوفان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات میں عام طور پر قطبی علاقوں میں روشن اور رنگین روشنیوں کا نمودار ہونا شامل ہے، جنہیں ارورا کہا جاتا ہے۔

اگر اس شمسی طوفان کی سمت اور مقناطیسی خصوصیات زمین کے میدان کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئیں تو یہ روشنیاں قطبی خطوں سے آگے بڑھ کر بعض درمیانی عرض بلد کے علاقوں تک بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں یورپ، شمالی امریکا، ایشیا کے کچھ حصے، نیوزی لینڈ اور جنوبی نصف کرے کے دیگر علاقے شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ آسمان صاف اور روشنی کی آلودگی کم ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں حتمی شدت کا اندازہ صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب شمسی ذرات زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچتے ہیں، جس سے چند گھنٹے یا منٹ قبل درست صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔

خلائی تحقیقاتی ادارے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے شمسی طوفان ریکارڈ کر چکے ہیں، جن کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں آسمان پر شاندار رنگین مناظر دیکھنے کو ملے تھے۔ اس بار بھی فلکیاتی ماہرین اور شوقین افراد اس قدرتی مظہر کے مشاہدے کے منتظر ہیں۔

Leave a reply