
آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار پولیس اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔
انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہے، جبکہ 13 پولیس اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران بعض شہری بھی زخمی ہوئے، جنہیں شیلنگ کے اثرات کے باعث نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق علاقے میں صورتحال اب قابو میں ہے اور فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے۔
حالیہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حکومت نے جمعے کی رات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے بعض رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید بھی شامل ہیں۔
کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ نشستوں کے خاتمے یا ان میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق یہ اختیار نئی منتخب قانون ساز اسمبلی کے پاس ہوگا جو آئندہ انتخابات کے بعد وجود میں آئے گی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئینی معاملات کا فیصلہ منتخب اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے اور سیاسی اختلافات انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ عدالت نے احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی حقوق کے استعمال سے دوسروں کی نقل و حرکت یا روزمرہ زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے معاہدے کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے، جس میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور آٹے پر سبسڈی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے اور تشدد کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر بھی عدالتی رائے سامنے آ چکی ہے، جس کے مطابق آئینی ترمیم کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔









