ٹرمپ نے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس مقرر کر دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی (FHFA) کے سربراہ بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس (DNI) مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
38 سالہ بل پلٹے قومی سلامتی یا انٹیلیجنس کے شعبے میں براہِ راست تجربہ نہیں رکھتے، تاہم وہ وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کی سربراہی کر رہے ہیں اور فینی مے و فریڈی میک جیسے اہم سرکاری معاونت یافتہ مالیاتی اداروں کی نگرانی بھی ان کے ذمہ ہے۔
یہ تقرری تلسی گبارڈ کے استعفے کے بعد عمل میں آئی ہے، جنہوں نے رواں سال جون کے اختتام پر عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ گبارڈ نے اپنے فیصلے کی وجہ ذاتی خاندانی حالات کو قرار دیا، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر بل پلٹے سینیٹ کی منظوری کے بغیر محدود مدت تک خدمات انجام دے سکیں گے۔ اس دوران وہ اپنی موجودہ ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے اور بیک وقت امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کے مختلف اداروں کی نگرانی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ پلٹے کو بڑے مالیاتی اداروں کے انتظام، مارکیٹ استحکام اور کھربوں ڈالر مالیت کے اثاثوں کی نگرانی کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جو انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے موزوں بناتا ہے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر بعض قانون سازوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور انٹیلیجنس کے شعبے میں تجربے کی کمی اس منصب کے لیے ایک اہم چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ چند ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین نے بھی پلٹے کی اہلیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مستقبل میں صدر ٹرمپ بل پلٹے کو مستقل طور پر اس عہدے کے لیے نامزد کرتے ہیں تو انہیں سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے کے لیے سخت جانچ پڑتال اور ممکنہ سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









