دمہ کے مریضوں میں ان ہیلر سے متعلق غلط فہمیاں علاج میں رکاوٹ

0
11
دمہ کے مریضوں میں ان ہیلر سے متعلق غلط فہمیاں علاج میں رکاوٹ

طبی ماہرین کے مطابق دمہ کے مریضوں میں ان ہیلر کے استعمال سے متعلق غلط فہمیاں اور غیر ضروری خدشات اب بھی عام ہیں، جس کے باعث بہت سے افراد بروقت اور مؤثر علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ کی علامات اکثر آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں، جن میں سینے میں جکڑن، سانس پھولنا اور مسلسل کھانسی شامل ہیں۔ تاہم، بعض مریض ان ہیلر استعمال کرنے سے اس خوف کی وجہ سے گریز کرتے ہیں کہ اس کی عادت پڑ جائے گی یا انہیں ساری زندگی اس پر انحصار کرنا پڑے گا۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ تصور درست نہیں۔ ان کے بقول دمہ ایک طویل مدتی بیماری ہے جسے قابو میں رکھنے کے لیے باقاعدہ علاج ضروری ہوتا ہے۔ ان ہیلر نشہ آور دوا نہیں بلکہ پھیپھڑوں کی سوزش کم کرنے اور سانس کی نالیوں کو کھولنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیلر کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ دوا براہ راست پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے، جس سے کم مقدار میں مؤثر علاج ممکن ہوتا ہے اور جسم پر غیر ضروری اثرات بھی کم پڑتے ہیں۔
اس کے علاوہ، بہت سے مریض ان ہیلر میں موجود اسٹیرائڈز کے نام سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ طبی ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ ان ہیلرز میں استعمال ہونے والے اسٹیرائڈز کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے اور ان کا اثر زیادہ تر پھیپھڑوں تک محدود رہتا ہے، اس لیے عام طور پر ان سے سنگین مضر اثرات کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض اوقات مریضوں کو لگتا ہے کہ ان ہیلر مؤثر ثابت نہیں ہو رہا، جبکہ اصل مسئلہ اس کے استعمال کے غلط طریقے میں ہوتا ہے۔ غلط سانس لینے یا دوا کے استعمال کی تکنیک درست نہ ہونے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔ اسی وجہ سے معالجین مریضوں کو ان ہیلر کے درست استعمال کی عملی تربیت دینے پر زور دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق معاشرتی جھجک بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کچھ افراد اسکول، دفتر یا دیگر عوامی مقامات پر ان ہیلر استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بیماری ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اس رویے کے باعث علاج میں تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیلر کو کمزوری یا بیماری کی علامت سمجھنے کے بجائے ایک مؤثر طبی سہولت کے طور پر دیکھنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے عینک، انسولین یا بلڈ پریشر کی ادویات۔ ان کے مطابق دمہ کے کامیاب علاج کے لیے ضروری ہے کہ مریض افواہوں اور غلط معلومات کے بجائے مستند طبی مشورے پر اعتماد کریں اور علاج کو باقاعدگی سے جاری رکھیں۔

Leave a reply