
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی تیاری کے لیے سورج کی روشنی ایک قدرتی اور اہم ذریعہ ہے، جو ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کی مضبوطی میں مدد فراہم کرتی ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق صبح کے اوقات، خاص طور پر 7 بجے سے 10 بجے تک، دھوپ میں کچھ وقت گزارنا نسبتاً محفوظ اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس دوران سورج کی شعاعیں وٹامن ڈی بنانے میں مؤثر رہتی ہیں جبکہ جلد کو نقصان پہنچنے اور شدید گرمی کے منفی اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ دن کے درمیانی اوقات، یعنی تقریباً ساڑھے دس بجے سے ساڑھے تین بجے تک، سورج کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ اس وقت جسم میں وٹامن ڈی تیزی سے بن سکتا ہے تاہم اسی دوران جلد کے جھلسنے، پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، خصوصاً گرمی کے موسم میں۔
طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لیے زیادہ دیر دھوپ میں رہنا ضروری نہیں۔ عام طور پر ہفتے میں چند دن 15 سے 30 منٹ تک چہرے، بازوؤں یا ٹانگوں کو دھوپ میں رکھنا کافی سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ مدت عمر، جلد کے رنگ اور موسمی حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
گہری رنگت والی جلد رکھنے والے افراد میں وٹامن ڈی کی تیاری نسبتاً سست ہوتی ہے، اس لیے انہیں کچھ زیادہ وقت دھوپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روزمرہ معمول میں کھلی فضا میں چہل قدمی یا ہلکی جسمانی سرگرمی بھی وٹامن ڈی کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ شدید دھوپ سے غیر ضروری طور پر بچاؤ بھی ضروری ہے۔
خوراک کے ذریعے وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لیے انڈے کی زردی، فیٹی مچھلی، مشروم اور وٹامن ڈی سے افزودہ دودھ کو مفید ذرائع قرار دیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ سن اسکرین جلد کو نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس کے استعمال سے وٹامن ڈی کی قدرتی تیاری میں کچھ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے مختصر وقت کے لیے محفوظ صبح کی دھوپ کو زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر جسم میں وٹامن ڈی کی شدید کمی پیدا ہو جائے تو صرف دھوپ اور غذائی ذرائع کافی نہیں ہوتے، ایسی صورت میں معائنے کے بعد ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق سپلیمنٹس یا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔









