ایران پر حملے مؤخر، ٹرمپ اور نیتن یاہو میں کشیدہ گفتگو

0
7
ایران پر حملے مؤخر، ٹرمپ اور نیتن یاہو میں کشیدہ گفتگو

امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کشیدہ رہی، جس میں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر دونوں رہنماؤں نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ سفارتی حل کو موقع دینے کے حق میں ہیں، جبکہ نیتن یاہو ایران کے خلاف فوری اور سخت فوجی کارروائی چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد بار رابطہ ہوا، جن میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی اقدامات زیر بحث آئے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں امریکا ایران پر نئے ہدفی حملوں پر غور کررہا تھا، تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے یہ کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں کے بعد کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اور پاکستانی ثالث مسلسل رابطوں میں ہیں تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک مؤثر فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارت کاری کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کا موقع موجود ہے تو اسے استعمال کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی میں تاخیر تہران کو مزید وقت فراہم کرے گی، جو اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے۔

امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر واضح اختلافات سامنے آئے۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی میں اختلافات خطے کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت یا ممکنہ کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔

Leave a reply