گرمیوں میں دن میں کتنی بار نہانا چاہیے؟ ماہرین نے اہم مشورے دے دیے

0
5
گرمیوں میں دن میں کتنی بار نہانا چاہیے؟ ماہرین نے اہم مشورے دے دیے

شدید گرمی اور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی لوگوں میں بار بار نہانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے تاکہ جسم کو ٹھنڈک مل سکے اور پسینے کی بدبو سے بچا جا سکے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ نہانا جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جلد قدرتی نمی اور تیل کے توازن کے ذریعے خود کو محفوظ رکھتی ہے۔ بار بار غسل کرنے سے جلد کے قدرتی تیل کم ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں خشکی، خارش اور جلن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔

گرمیوں میں پسینہ زیادہ آنے کی وجہ سے جلد پر جراثیم، مٹی اور نمی جمع ہو جاتی ہے، جس سے فنگل انفیکشن، ریشز اور خارش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسلیے صفائی ضروری ہے، لیکن نہانے کیتعداد میں اعتدال رکھنا بھی اہم ہے۔

ماہرینِ جلد کے مطابق عام حالات میں دن میں ایک یا دو بار نہانا کافی ہوتا ہے۔ وہ افراد جو زیادہ تر گھروں یا دفاتر میں رہتے ہیں، ان کے لیے ایک بار نہانا مناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ دھوپ میں کام کرنے والے، سفر کرنے والے یا ورزش کرنے والے افراد دن میں دو بار نہا سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نہانے کے لیے بہت گرم پانی استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کی نمی تیزی سے ختم ہوتی ہے۔ نیم گرم یا ٹھنڈا پانی جلد کے لیے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ گرمیوں میں سخت کیمیکل والے صابن سے پرہیز کیا جائے اور کم از کم ایک بار صرف سادہ پانی سے غسل کیا جائے تاکہ جلد کا قدرتی تحفظ برقرار رہے۔

صبح نہانا جسم کو دن بھر تروتازہ رکھتا ہے جبکہ شام کا غسل پسینہ اور گردوغبار صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح ورزش کے فوراً بعد نہانا بھی جلدی انفیکشن سے بچاؤ کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں میں جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں، جن میں ٹھنڈے یا نیم گرم پانی کا استعمال، صابن کا محدود استعمال، غسل کے بعد موئسچرائزر لگانا اور ہوا دار کپڑے پہننا شامل ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد خشک ہو کر اترنے لگے، خارش یا سرخی پیدا ہو، یا نہانے کے بعد جلد میں کھنچاؤ محسوس ہو تو یہ ضرورت سے زیادہ نہانے کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں غسل کی تعداد کم کر دینی چاہیے تاکہ جلد کی قدرتی حفاظت برقرار رہے۔

Leave a reply