
اڈیالا جیل راولپنڈی میں قیدیوں کے زیرِ استعمال موبائل فون کی برآمدگی کے بعد جیل کے سیکیورٹی انتظامات ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہیوی جیمرز کی موجودگی کے باوجود حوالاتی سے موبائل فون ملنے پر جیل انتظامیہ کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب جیل میں ہونے والی سرچ آپریشن کے دوران ایک حوالاتی کے قبضے سے موبائل فون برآمد کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد حساس قیدیوں کی سیکیورٹی اور جیل کے اندر نگرانی کے مؤثر نظام پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
اڈیالا جیل میں اس وقت کئی اہم اور ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں، جن میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بھی شامل ہیں، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار افراد بھی اسی جیل میں قید ہیں۔ ایسے حالات میں قیدیوں تک موبائل فون کی رسائی کو سیکیورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں موبائل سگنلز روکنے کے لیے جدید ہیوی جیمرز نصب کیے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود موبائل فون کا استعمال سامنے آنا انتظامی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ موبائل فون جیل کے اندر کیسے پہنچا اور اس میں کون ملوث تھا۔








