
بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے دفاعی تعاون کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار، جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں ممکنہ خطرات کے دوران سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
اطلاعات میں کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر مشتمل ایک اسکواڈرن، ڈرون یونٹس اور فضائی دفاعی نظام سعودی عرب بھیجے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط اور معمول کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عسکری تربیت، مشترکہ مشقیں اور دفاعی تعاون پہلے سے موجود معاہدوں کے تحت جاری رہتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات مذہبی، ثقافتی، معاشی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں اور مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔
تاحال اس معاملے پر پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات پر بحث جاری ہے۔








