مسجد یا مندر؟ بھوج شالا فیصلے نے بھارت میں نیا تنازع کھڑا کر دیا

0
6
مسجد یا مندر؟ بھوج شالا فیصلے نے بھارت میں نیا تنازع کھڑا کر دیا

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد تاریخی بھوج شالا کمپلیکس ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس مقام کو ہندو دیوی ’’واگ دیوی‘‘ سے منسوب قرار دیتے ہوئے ہندو فریق کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی ہے، جبکہ مسلم فریق کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مقام، جسے کمال مولٰی مسجد بھی کہا جاتا ہے، دہائیوں سے قانونی اور مذہبی تنازع کا شکار رہا ہے۔ مسلم کمیونٹی یہاں عرصہ دراز تک جمعہ کی نماز ادا کرتی رہی ہے، جبکہ 2003 کے ایک انتظامی معاہدے کے تحت ہندوؤں کو مخصوص دن عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالتی فیصلے میں آثارِ قدیمہ کے ادارے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ ڈھانچے سے پہلے اس جگہ پر ایک ہندو مذہبی مقام موجود تھا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے موجودہ درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلم فریق کو متبادل زمین لینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ کسی اور مقام پر نئی عبادت گاہ تعمیر کر سکیں۔

فیصلے کے بعد علاقے میں ہندو تنظیموں نے رسومات ادا کیں اور کمپلیکس میں عارضی طور پر مذہبی علامات بھی نصب کی گئیں، جس کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

مسلم فریق کے وکلاء نے اس فیصلے کو تاریخ اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب بعض سیاسی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں دیگر مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندو تنظیموں نے فیصلے کو اپنی مذہبی و تہذیبی مؤقف کی تائید قرار دیا ہے، جبکہ مختلف حلقوں میں اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

Leave a reply