مندروں کے سونے کو سرکاری خزانے میں شامل کرنے کا دعویٰ مسترد

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ریاست مندروں کے پاس موجود سونے کو زبردستی اپنے کنٹرول میں لے کر اسے مالیاتی بانڈز یا سرکاری خزانے کا حصہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور پریس انفارمیشن بیورو نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد، گمراہ کن اور جھوٹ قرار دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے بھی واضح کیا ہے کہ نہ تو کسی مذہبی ادارے کے سونے کو ضبط کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کوئی لازمی سرکاری اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔
یہ افواہیں اس وقت پھیلیں جب انڈین بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے ایک عمومی تجویز پیش کی کہ مندروں اور دیگر اداروں میں موجود غیر استعمال شدہ سونے کو رضاکارانہ طور پر معیشت میں لانے کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس تجویز کو غلط انداز میں پیش کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت زبردستی سونا حاصل کرنے جا رہی ہے۔
حکومتی وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مندروں کی عمارتوں، دروازوں یا دیگر حصوں پر موجود سونے کو قومی ذخائر کا حصہ بنانے کا دعویٰ بھی سراسر غلط ہے۔
بھارتی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کو ہی معتبر سمجھیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں پہلے سے ایک رضاکارانہ نظام موجود ہے جسے گولڈ مانیٹائزیشن اسکیم کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت شہری اور مذہبی ادارے اپنی مرضی سے سونا بینکوں میں جمع کرا سکتے ہیں، جہاں اس پر منافع دیا جاتا ہے۔ تاہم اس عمل میں سونے کی جانچ اور وزن کے لیے اسے پگھلانے کی شرط ہوتی ہے، جس پر اکثر مذہبی ادارے اور عقیدت مند تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
مذکورہ اسکیم کے تحت بعض بڑے مذہبی مقامات پہلے بھی محدود پیمانے پر اس میں شامل ہو چکے ہیں، تاہم کئی ادارے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس عمل میں حصہ نہیں لے سکے۔
بھارتی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذہبی ادارے کے خلاف نہ کوئی زبردستی کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس نوعیت کا کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے۔









