
ارجنٹائن کے ایک دور دراز لینڈ فل میں نایاب پرندے کی تلاش کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ عالمی سطح پر صحت کے خدشات کا سبب بن گیا ہے، جس میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والا ایک ڈچ جوڑا ارجنٹائن کے شہر اوشوائیا کے قریب ایک کچرا کنڈی میں نایاب پرندے کی تصاویر لینے کے لیے گیا، جہاں مبینہ طور پر وہ چوہوں سے پھیلنے والے وائرس کے رابطے میں آ گیا۔
ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقے میں چوہوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جو ہنٹا وائرس کی مختلف اقسام کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ متاثرہ شخص آلودہ ہوا کے ذریعے وائرس کے ذرات کے قریب آیا، جس کے بعد اس کی طبیعت خراب ہوئی۔
چند دن بعد وہی جوڑا ایک کروز جہاز پر سوار ہوا، جہاں سفر کے دوران ایک مسافر کی حالت بگڑ گئی اور بعد میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ طبی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کیس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے جڑا ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں دیگر مسافروں میں بھی علامات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد مختلف ممالک کے صحت حکام کو الرٹ کر دیا گیا۔ متاثرہ جہاز کو روکا گیا اور مسافروں کی اسکریننگ شروع کر دی گئی۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق اب تک متعدد افراد میں ہنٹا وائرس کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کیسز مختلف ممالک سے منسلک ہو رہے ہیں۔
عالمی صحت ادارے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کے رابطوں کی ٹریسنگ جاری ہے تاکہ ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔









