لز لز کا انکشاف: ویرات کوہلی کے خلاف بیان دینے کے لیے مالی پیشکش کی گئی

0
6
لز لز کا انکشاف: ویرات کوہلی کے خلاف بیان دینے کے لیے مالی پیشکش کی گئی

جرمنی اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر لز لز نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بعض افراد کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ وہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کے خلاف بیان دیں تاکہ ایک منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔

لز لز کے مطابق کچھ میڈیا سے وابستہ افراد نے انہیں پیسے دینے کی کوشش کی تاکہ وہ ویرات کوہلی کے بارے میں ایسے دعوے کریں جو حقیقت پر مبنی نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پیشکش فوراً مسترد کر دی کیونکہ ان کے مطابق کوہلی نے کوئی غلط رویہ اختیار نہیں کیا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ویرات کوہلی نے انسٹاگرام پر لز لز کی ایک پوسٹ کو لائک کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ بعد میں معاملہ اتنا بڑھا کہ اس پر متعدد پلیٹ فارمز پر بحث ہونے لگی۔

لز لز نے کہا کہ وہ خود بھی بھارت اور آئی پی ایل کی ٹیم آر سی بی کی مداح ہیں، اسی لیے ان کا مواد ممکنہ طور پر کوہلی کے سوشل میڈیا فیڈ میں نظر آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے میں نہ تو کسی غیر مناسب رابطے کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی کسی غلط نیت کا۔

انفلوئنسر کے مطابق اس واقعے کے دوران ان کے بارے میں جھوٹی اور بعض اوقات مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی تصاویر بھی گردش کرتی رہیں، جنہیں انہوں نے غیر سنجیدہ قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواد سے متعلق غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

لز لز نے کوہلی کو دنیا کے بڑے کھیلوں کے ستاروں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مقبولیت کی وجہ سے معمولی باتیں بھی بڑے تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

ان کے مطابق اس واقعے کے بعد انہیں مختلف میڈیا اور برانڈز کی پیشکشیں بھی ملیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف وہی کام قبول کرتی ہیں جو ان کے اصولوں کے مطابق ہو۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ویرات کوہلی کا انسٹاگرام ایکٹیویٹی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہو۔ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے معاملات سامنے آ چکے ہیں، جن پر خود کوہلی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات انسٹاگرام الگورتھم کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مجموعی طور پر لز لز کے اس بیان نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں میں اکثر قیاس آرائیاں حقیقت سے مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔

Leave a reply