امریکا اور ایران میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ٹرمپ نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا

0
17
امریکا اور ایران میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ٹرمپ نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کی صورتحال کو خطرناک بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ حالات کے پیش نظر قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹ کلیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین سمیت اہم حکومتی و عسکری شخصیات شریک ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید سخت شرائط منوانے کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں محدود فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر مستحکم قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران پہلے یورینیم کی منتقلی پر آمادہ تھا لیکن اب مؤقف تبدیل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جوہری مواد کو محفوظ انداز میں منتقل کرنے کی صلاحیت صرف چند ممالک کے پاس موجود ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں اپنی دفاعی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق بحری دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے چھوٹی آبدوزیں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی قسم کی جارحیت کی تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس اجلاس میں ایران کے حساس فوجی اہداف پر ممکنہ کارروائی سمیت مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا جائے گا۔

Leave a reply