کیا ٹرمپ پر حملے سیاسی ڈرامہ تھے؟ امریکیوں میں بحث چھڑ گئی

امریکا میں ایک حالیہ سروے کے نتائج نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جس کے مطابق بعض امریکی شہری سابق صدر Donald Trump پر ہونے والے مبینہ قاتلانہ حملوں کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’نیوز گارڈ ریئلٹی چیک‘‘ نامی سروے میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹرمپ کو نشانہ بنانے والے واقعات میں سے کم از کم ایک حملہ ممکنہ طور پر ’’اسٹیجڈ‘‘ یا پہلے سے منصوبہ بند ہو سکتا ہے۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند ہفتے قبل وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشائیے کے دوران ایک مسلح شخص کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا تھا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں اور بعض صارفین نے اس واقعے کی حقیقت پر سوالات اٹھائے۔
سروے کے مطابق نوجوان ووٹرز اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں ان واقعات سے متعلق شکوک نسبتاً زیادہ پائے گئے۔ کچھ شرکاء نے 2024 میں پنسلوانیا میں پیش آنے والے حملے کو بھی مشکوک قرار دیا۔
دوسری جانب ریپبلکن ووٹرز کے ایک محدود حلقے نے بھی حالیہ حملوں کے بارے میں سوالات اٹھائے، جس سے سیاسی تجزیہ کاروں نے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور سازشی نظریات کے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کو ’’ڈرامہ‘‘ قرار دینا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حملوں سے متعلق تحقیقات اور شواہد موجود ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سازشی نظریات اکثر عوامی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں، چاہے ان کے حق میں مضبوط ثبوت موجود نہ ہوں۔









