ہڈی ٹوٹنے یا فریکچر کی صورت میں مفید غذا اور احتیاطی تدابیر

0
18
ہڈی ٹوٹنے یا فریکچر کی صورت میں مفید غذا اور احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت کے مطابق ہڈی ٹوٹنے (فریکچر) کی صورت میں صرف آرام اور ادویات کافی نہیں ہوتیں بلکہ مناسب غذا اور احتیاطی تدابیر بھی علاج کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس دوران جسم کو ہڈیوں کے جلدی جڑنے کے لیے اضافی غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے، جن کی کمی سے صحتیابی کا عمل سست پڑ سکتا ہے اور کمزوری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کی مضبوطی اور مرمت کے لیے کیلشیم، پروٹین، وٹامن ڈی اور وٹامن سی انتہائی ضروری ہیں۔ دودھ، دہی اور پنیر کیلشیم کے بہترین ذرائع ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح پالک، میتھی اور سرسوں جیسی سبز پتوں والی سبزیاں بھی کیلشیم اور آئرن فراہم کر کے ہڈیوں کی بحالی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

پروٹین جسم کے ٹشوز کی مرمت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جس کے لیے دالیں، انڈے، چکن اور سویا بین کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔ بادام، اخروٹ اور دیگر خشک میوہ جات جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور بحالی کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے مالٹا، لیموں اور آملہ جسم میں کولاجن کی تیاری میں مدد دیتے ہیں، جو ہڈیوں کے دوبارہ جڑنے کے لیے ضروری عنصر ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی کے حصول کے لیے دھوپ میں کچھ وقت گزارنا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے تاکہ جسم کیلشیم کو بہتر طریقے سے جذب کر سکے۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ پانی کا مناسب استعمال جسم سے فاضل مادوں کے اخراج اور خلیات کی بحالی میں مدد دیتا ہے، جبکہ ڈاکٹر کی اجازت سے ہلکی پھلکی جسمانی حرکت خون کی گردش کو بہتر بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب کچھ عادات سے پرہیز بھی ضروری ہے۔ زیادہ نمک اور چینی ہڈیوں کو کمزور کر سکتے ہیں جبکہ کولڈ ڈرنکس، چائے اور کافی کا زیادہ استعمال ہڈیوں کی صحتیابی کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ تمباکو نوشی کو بھی سخت نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہڈیوں تک خون کی فراہمی متاثر کرتی ہے۔ فریکچر کی صورت میں متاثرہ حصے کی مالش سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہڈیوں کے جڑنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور مریض جلد صحتیاب ہو کر معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکتا ہے۔

Leave a reply