ذہنی صحت سے متعلق آگاہی: فائدے کے ساتھ ممکنہ چیلنجز بھی سامنے آنے لگے

0
10
ذہنی صحت سے متعلق آگاہی: فائدے کے ساتھ ممکنہ چیلنجز بھی سامنے آنے لگے

دنیا بھر میں ذہنی صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی نے بہت سے لوگوں کو اپنے مسائل پر کھل کر بات کرنے، مدد لینے اور تنہائی کے احساس سے نکلنے میں مدد دی ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اس آگاہی کے کچھ غیر ارادی منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں۔

امریکی ماہر نفسیات مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کی تازہ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ذہنی صحت سے متعلق مواد کی بہت زیادہ موجودگی بعض افراد کو اپنے عام جذبات کو بھی بیماری سمجھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب نوجوان بار بار ایسے مواد کو دیکھتے ہیں جس میں ڈپریشن یا اینزائٹی کی علامات بیان کی جاتی ہیں، تو وہ بعض اوقات اپنی روزمرہ کی عام کیفیتوں جیسے اداسی، دباؤ یا گھبراہٹ کو بھی انہی امراض سے جوڑنے لگتے ہیں۔ اس عمل سے وہ غیر ضروری طور پر خود کو مریض سمجھنے لگتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تین بنیادی عوامل سے جڑی ہوئی ہے۔ پہلا یہ کہ ذہنی امراض کی تعریفیں اس قدر وسیع ہو گئی ہیں کہ عام انسانی جذبات اور کلینیکل مسائل کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ لوگ اپنے احساسات کا حد سے زیادہ تجزیہ کرنے لگتے ہیں، جس سے معمولی تبدیلیاں بھی تشویش کا باعث بن جاتی ہیں۔ تیسرا یہ کہ جب کوئی شخص خود کو کسی ذہنی مسئلے سے منسلک کر لیتا ہے تو اس کا رویہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے، مثلاً وہ سماجی میل جول کم کر سکتا ہے، جس سے مسئلہ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں کسی مسئلے کے بارے میں زیادہ سوچ یا معلومات حاصل کرنا الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تنہائی کے نقصانات جاننے سے کچھ افراد مزید تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں، جبکہ دباؤ کے بارے میں مسلسل آگاہی بعض لوگوں کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اسی طرح بعض “ٹرگر وارننگز” یا فرضی علامات سے متعلق مواد بھی بعض افراد میں بے چینی بڑھا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ انہیں پرسکون کرے۔

اس کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی انتہائی ضروری ہے اور اسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ آگاہی کو متوازن انداز میں پیش کیا جائے تاکہ لوگ عام جذبات اور حقیقی ذہنی بیماریوں کے درمیان فرق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ لوگ یہ پہچان سکیں کہ کب انہیں واقعی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے، اور کب وہ صرف زندگی کے معمول کے جذبات سے گزر رہے ہیں۔

Leave a reply