
حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل نے عوام اور معیشت دونوں پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک جانب جہاں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، وہیں لائٹ ڈیزل بھی مہنگا کر دیا گیا ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی کر کے کسی حد تک عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 360 روپے 76 پیسے مقرر ہوئی ہے۔ یہ کمی خاص طور پر ان طبقات کے لیے اہم ہے جو گھریلو استعمال، خصوصاً دیہی علاقوں میں، مٹی کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے برعکس لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 3 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 287 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل عام طور پر زرعی مشینری اور کچھ صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اس اضافے کے اثرات بالواسطہ طور پر زرعی لاگت اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا تھا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر 399 روپے 58 پیسے تک پہنچ گیا، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے اضافہ کر کے اسے 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تمام نئی قیمتیں یکم مئی کی رات 12 بجے سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی ایک محدود ریلیف ضرور فراہم کرتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں توازن قائم رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی حالات کے تناظر میں مزید کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔








