اسلام آباد: قبائلی سرداروں کے شناختی دستاویزات کی تصدیق کے اختیارات ختم قرار، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ قبائلی سرداروں کو شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے تمام اختیارات صرف قانون کے تحت مقررہ سرکاری حکام کو حاصل ہیں۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کے اجرا کا مکمل نظام قانون کے مطابق چلتا ہے، اور اس عمل کی تصدیق بھی صرف مجاز سرکاری ادارے ہی کر سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی قبائلی یا روایتی سردار کو ریاستی قوانین سے ہٹ کر ایسی دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ 1976 میں سرداری نظام کو قانونی حیثیت سے ختم کر دیا گیا تھا۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مقامی یا روایتی رواج عدالت کی نظر میں قانونی حیثیت نہیں رکھتے، اور ریاستی نظام کے تحت ہی تمام دستاویزاتی کارروائی ہونا لازمی ہے۔
اس فیصلے کو ملک میں شناختی دستاویزات کے نظام میں شفافیت اور قانونی عملداری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔









