امریکا ایران کشیدگی: ٹرمپ کے سخت مؤقف کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری

0
3
امریکا ایران کشیدگی: ٹرمپ کے سخت مؤقف کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ جلد بازی میں کسی ایسے معاہدے سے نہیں نکلے گا جس سے چند سال بعد دوبارہ بحران پیدا ہو۔
ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اگر ایران کو نہ روکا جاتا تو اس کے اثرات اسرائیل اور یورپ تک پہنچ سکتے تھے۔
انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک کی عسکری صلاحیتیں کمزور ہو چکی ہیں اور قیادت بھی شدید نقصان سے دوچار ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بعض سابق ایرانی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں۔
ایندھن کی عالمی منڈی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور اگر یہ روانہ ہو جائیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔
انہوں نے ایران کے سامنے دو راستے رکھے: یا تو معاہدہ کیا جائے یا صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے اب تک متعدد عسکری صلاحیتوں کو محدود کیا ہے اور کئی بین الاقوامی تنازعات کے خاتمے کا دعویٰ بھی کیا۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو نئی تجاویز ارسال کی ہیں۔ ان تجاویز میں مرحلہ وار امن عمل شامل ہے جس میں جنگ بندی کا استحکام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور بعد میں جوہری پروگرام پر مذاکرات جیسے نکات شامل ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اس عمل میں ممکنہ ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکی رویے میں تبدیلی ضروری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مختلف ممالک سے رابطوں میں کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا لیکن دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں پیش رفت مشکل ہوگی۔
ادھر ایران کے اعلیٰ عدالتی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک جنگ نہیں چاہتا مگر اپنی خودمختاری اور عزت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکی صدر نے ایرانی تجاویز پر تاحال غیر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید بہتر اور قابل عمل منصوبہ پیش کیا جانا چاہیے۔

Leave a reply