انڈے کھانے سے الزائمر کا خطرہ کم ہونے کا انکشاف

0
20
انڈے کھانے سے الزائمر کا خطرہ کم ہونے کا انکشاف

انڈے ایک عام مگر انتہائی غذائیت سے بھرپور غذا ہیں جنہیں ماہرین صحت جسمانی اور ذہنی بہتری کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔ حالیہ طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈوں کا باقاعدہ مگر معتدل استعمال دماغی تنزلی، خصوصاً الزائمر جیسے مرض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق جریدہ جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئی جس میں وقت کے ساتھ غذائی عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا انڈے کھانے اور دماغی بیماریوں کے خطرے میں کمی کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں ایک یا چند بار انڈے کھانے سے بھی دماغی تنزلی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ جو افراد ہفتے میں پانچ یا اس سے زیادہ بار انڈے کھاتے ہیں، ان میں الزائمر کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا۔
تاہم تحقیق میں اس تعلق کو براہ راست ثابت نہیں کیا جا سکا، یعنی یہ واضح نہیں کہ انڈے ہی اس کمی کی واحد وجہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر غذائیت سے بھرپور خوراک دماغی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انڈوں میں موجود اہم غذائی اجزا جیسے کولین، وٹامن بی 12 اور مفید چکنائیاں دماغی افعال، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی اجزا دماغی خلیات کی ساخت اور کارکردگی کو سہارا دیتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ انڈوں کو متوازن غذا کا حصہ بنانا مفید ہو سکتا ہے، مگر صرف ان پر انحصار کافی نہیں۔ دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور ذیابیطس و ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض پر قابو رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔
مختصراً، انڈے صحت مند طرزِ زندگی کا ایک مفید حصہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں دیگر اچھی عادات کے ساتھ شامل کیا جائے۔

Leave a reply