امریکہ میں ایچ-1 بی ویزا پروگرام پر تین سالہ معطلی اور بڑی اصلاحات کا مجوزہ بل پیش

0
6
امریکہ میں ایچ-1 بی ویزا پروگرام پر تین سالہ معطلی اور بڑی اصلاحات کا مجوزہ بل پیش

امریکا میں ایچ-1 بی ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلیوں اور عارضی معطلی سے متعلق ایک نیا مجوزہ بل پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بل ریپبلکن رہنما ایلی کرین نے پیش کیا ہے، جس کا نام ”اینڈ ایچ-1 بی ویزا ابیوز ایکٹ 2026“ رکھا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت موجودہ امیگریشن نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے امریکی افرادی قوت کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔
بل کے حامیوں کے مطابق موجودہ ویزا پالیسی میں خامیاں موجود ہیں اور بعض اوقات یہ امریکی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود کرنے کا سبب بنتی ہے، اس لیے اس میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
مجوزہ قانون میں تجویز دی گئی ہے کہ ایچ-1 بی ویزوں کی سالانہ حد 65 ہزار سے کم کر کے 25 ہزار کر دی جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ لاٹری نظام ختم کر کے ویزا کے انتخاب کو تنخواہ اور مہارت کی بنیاد پر کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
نئی تجاویز کے مطابق غیر ملکی ہنرمند کارکن کے لیے کم از کم سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالر مقرر کرنے کی بات کی گئی ہے تاکہ کم اجرت پر لیبر کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس کے ساتھ آجروں پر لازم ہوگا کہ وہ ثابت کریں کہ مطلوبہ کام کے لیے کوئی اہل امریکی شہری دستیاب نہیں اور کسی امریکی ملازم کو اس مقصد کے لیے برطرف نہیں کیا گیا۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز ایک سے زیادہ ملازمتیں نہیں کر سکیں گے اور انہیں اپنے اہل خانہ کو امریکہ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح Optional Practical Training (OPT) پروگرام ختم کرنے اور گرین کارڈ حاصل کرنے کے راستے کو مزید محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے ویزا نظام کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اس کا استعمال صرف حقیقی اور عارضی مہارت کی ضرورت کے لیے ہو۔
یہ معاملہ طویل عرصے سے امریکی سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع رہا ہے، جہاں ایک طبقہ اسے مقامی ملازمتوں کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرے اس ویزا پروگرام کو عالمی ہنر اور جدت کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔

Leave a reply