شام میں 2013 کے قتلِ عام کے مبینہ مرکزی ملزم کی گرفتاری، دمشق میں عوام کا ردعمل اور انصاف کا مطالبہ

0
6
شام میں 2013 کے قتلِ عام کے مبینہ مرکزی ملزم کی گرفتاری، دمشق میں عوام کا ردعمل اور انصاف کا مطالبہ

شام میں 2013 کے پرتشدد واقعات اور مبینہ بڑے قتلِ عام میں ملوث مرکزی ملزم امجد یوسف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم پر سنگین جرائم کے الزامات ہیں اور اس کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی دارالحکومت دمشق میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ شہریوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔
ذرائع کے مطابق امجد یوسف سابق دور حکومت میں انٹیلی جنس ادارے سے منسلک رہا اور 2013 میں جنوبی دمشق کے ایک حساس علاقے میں سیکیورٹی آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ اسی دوران اس پر شہریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے۔
2022 میں منظر عام پر آنے والی ایک مبینہ ویڈیو نے اس کیس کو دوبارہ عالمی توجہ دلائی۔ ویڈیو میں ایک شخص، جس کی شناخت امجد یوسف کے طور پر کی گئی، مبینہ طور پر زیر حراست افراد کے ساتھ تشدد آمیز کارروائیوں میں ملوث دکھائی دیتا ہے۔ یہ مناظر 16 اپریل 2013 کے تدامن علاقے کے واقعات سے منسوب کیے جاتے ہیں، جب وہاں شدید جھڑپیں جاری تھیں۔
اس ویڈیو کے بعد متاثرہ خاندانوں نے بھی ردعمل دیا اور بعض نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے لاپتہ عزیزوں کو ویڈیو میں پہچانا ہے۔
مزید رپورٹس کے مطابق 2024 کے آخر میں سیاسی حالات میں تبدیلی کے بعد ملزم روپوش ہو گیا تھا، تاہم حالیہ کارروائی کے دوران اسے گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ 2013 کے ان واقعات میں مجموعی طور پر تقریباً 288 شہری جاں بحق ہوئے تھے، جنہیں ملک کی حالیہ تاریخ کے افسوسناک ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے انصاف کے منتظر تھے اور اب انہیں امید ہے کہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

Leave a reply