
کراچی: بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ سے پریشان شہریوں نے متبادل کے طور پر سولر توانائی کا رخ کیا، مگر مارکیٹ میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
شہر میں جب صارفین سولر پینلز خریدنے نکلے تو انہیں دکانداروں کی جانب سے من مانی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو سولر سسٹم پہلے ریلیف کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب وہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 585 واٹ کے سولر پینل کی قیمت میں اچانک تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 25 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے پر صارفین نے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ گرمیوں کے موسم میں طلب بڑھنے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بعض امپورٹرز کے مطابق یہ اضافہ طلب سے زیادہ ناجائز منافع خوری کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سالانہ ہزاروں کنٹینرز سولر پینلز درآمد ہونے کے باوجود قیمتوں میں اس قدر اضافہ بلاجواز ہے۔
صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ انورٹرز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے صارفین کے لیے مکمل سولر سسٹم لگوانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ کو مؤثر طریقے سے ریگولیٹ نہ کیا گیا تو متبادل توانائی کا حصول عام شہری کے لیے مزید مشکل ہو جائے گا۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔









