امریکی بحریہ کی کارروائی: خلیجِ عمان میں ایرانی جہاز تحویل میں

سینٹکام نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میرینز نے خلیجِ عمان میں ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خلیج عمان میں کی گئی، جہاں امریکی بحریہ نے جہاز کو روک کر اس پر کنٹرول حاصل کیا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ جہاز اس وقت ان کی نگرانی میں ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق “ایم وی توسکا” نامی یہ کنٹینر شپ ایرانی رجسٹریشن کے تحت چل رہی تھی، اور کارروائی سے قبل اس کی رفتار کم ہو کر تقریباً 1.2 ناٹس رہ گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے پہلے ہی روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ جہاز کو آبنائے ہرمز میں مبینہ خلاف ورزی کے باعث روکا گیا۔ ان کے مطابق امریکی فورسز نے متعدد بار وارننگ دی، لیکن عملے کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
بیان کے مطابق تقریباً 900 فٹ طویل اس جہاز کو ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کے ذریعے روکا گیا، جبکہ اس کے انجن روم کو ناکارہ بنا کر مکمل کنٹرول حاصل کیا گیا۔
اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، کیونکہ خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم بحری راستے ہیں۔








