آبنائے ہرمز: کھلا دروازہ یا نیا جنگی محاذ؟ حقیقت نے دنیا کو ہلا دیا

آبنائے ہرمز کے گرد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد یہ اہم بحری راستہ دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتا ہے، تاہم تازہ پیش رفت نے صورتحال کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر نے ایران کی جانب سے بحری راستوں کی ممکنہ بحالی کے اشاروں کا خیرمقدم کیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اسی دوران ایرانی حکام کی بعض بیانات سے یہ تاثر ملا کہ تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
تاہم بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا میں اس مؤقف پر اختلافات سامنے آئے، جس سے ابہام مزید بڑھ گیا۔ امریکی حکام نے بھی واضح کیا کہ حتمی معاہدے تک موجودہ پابندیوں اور اقدامات میں نرمی ممکن نہیں۔
اس کے بعد صورتحال نے ایک بار پھر شدت اختیار کی، اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسوب بیانات میں آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کو خبردار کیا گیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کو دشمنی تصور کیا جائے گا۔ بعض رپورٹس میں خطے میں بحری سرگرمیوں کے دوران کشیدگی اور محدود فائرنگ کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملکی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن دباؤ یا بلیک میلنگ قبول نہیں کی جائے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلکہ ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم سے متعلق امور پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ جنگ بندی کی موجودہ مدت کے اختتام میں صرف چند روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی اور موجودہ بحران پر غور کیا گیا۔
اگرچہ بعض ذرائع مذاکرات کے نئے دور کی امید ظاہر کر رہے ہیں، تاہم اب تک کسی باضابطہ پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔









