
اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیرملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کے مہمانوں کی میزبانی کے لیے شہر بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مہمانوں کی رہائش کے لیے سرینا ہوٹل کو منتخب کیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال سے روک دیا گیا ہے اور اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں پولیس، رینجرز، فرنٹئیر فورس اور پاک فوج کے جوان شامل ہیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کے روٹس پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ اہم عمارتوں پر سنائپرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ روٹ کے اطراف علاقوں کو کلیئر رکھا جا رہا ہے اور بغیر اجازت کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں مختلف مقامات پر مشترکہ چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اسپیشل برانچ کی جانب سے انٹیلیجنس معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بھی سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ شہر میں بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور دیگر کاروباری مراکز کو عارضی طور پر بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پارکس بھی عوام کے لیے بند رہیں گے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت ہاسٹلز بند کر کے طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔









