آبنائے ہرمز کے قریب بھارتی آئل ٹینکرز پر حملے کا دعویٰ، آڈیو سامنے آگئی

خلیج عمان کے شمالی علاقے میں ایک مبینہ واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق ایران کی بحریہ کی جانب سے دو بھارتی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے سے منسلک ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی ہے، جس میں جہاز کے کپتان کو حملہ رکوانے اور جہاز کو واپس موڑنے کی اجازت مانگتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ آڈیو بھارتی خام تیل بردار جہاز “سنمار ہیرالڈ” سے منسوب کی جا رہی ہے۔ ریکارڈنگ میں ایک اہلکار مبینہ طور پر ایرانی بحریہ کو یاد دلاتا ہے کہ انہیں پہلے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی اور ان کا نام فہرست میں شامل تھا، مگر اب ان پر فائرنگ کی جا رہی ہے۔ وہ واپسی کی اجازت کی درخواست بھی کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق “سنمار ہیرالڈ” عراق سے تقریباً بیس لاکھ بیرل خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا، جبکہ دوسرا جہاز “جگ آرنَو” سعودی عرب سے بھارت کی طرف روانہ تھا۔
اس واقعے کے بعد بھارت کی وزارت خارجہ نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اس کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
ایران کی قیادت کی جانب سے بھی حالیہ بیانات میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت کے باوجود اہم اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ابھی ممکن نہیں۔
ادھر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔ اگر اس میں توسیع نہ ہوئی تو ماہرین کے مطابق سمندری حدود میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ایران بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے یا خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی۔









