ایران کے نئے سپریم لیڈر کی غیر موجودگی پر قیاس آرائیاں، روسی سفیر نے موجودگی کی تصدیق کی

ایران میں نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی پر عالمی سطح پر قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ تاہم روسی سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملک میں موجود ہیں لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر نظر نہیں آ رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، روسی میڈیا آؤٹ لیٹ آر ٹی وی آئی کے حوالے سے ایران میں ماسکو کے سفیر نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں موجود ہیں، تاہم وہ ’’قابل فہم وجوہات‘‘ کی بنا پر عوامی طور پر نظر نہیں آ رہے۔
سپریم لیڈر کی غیر موجودگی کے بعد جاری کیے گئے تمام بیانات تحریری شکل میں سامنے آئے ہیں، جن میں 12 مارچ کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل ہے۔ یہ بیانات سرکاری ٹی وی پر اینکرز کے ذریعے پڑھ کر نشر کیے گئے۔
واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 28 فروری کو اپنے والد، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تب سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما ممکنہ طور پر ’’ہلاک یا شدید زخمی‘‘ ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی موجودہ حالت کے بارے میں شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔









