برطانیہ: ڈاکٹر رحمہ علادوان کو حراست میں لےلیا گیا

برطانیہ میں پولیس نے ایک خاتون ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک کالعدم تنظیم کی حمایت پر اکسانے اور نسلی منافرت پھیلانے میں ملوث رہی ہیں۔ ڈاکٹر رحمہ علادوان، جو نیشنل ہیلتھ سروس سے وابستہ ہیں، کو جنوبی گلوسٹر شائرمیں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق الزامات سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے مواد سے متعلق ہیں، جو 23 جولائی سے 31 دسمبر 2025 کے دوران شائع ہوئے۔ انہیں پبلک آرڈر ایکٹ 1986 کی خلاف ورزی کے بھی الزامات ہیں، جس کے تحت انہیں ایسے تحریری مواد یا بیانات جاری کرنے کا الزام ہے جو دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز تھے اور جن کا مقصد نسلی منافرت کو فروغ دینا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر رحمہ پر چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ واقعات کا جشن منایا اور مخصوص بیانات دیے، جن میں اسرائیلی شہریوں کے حوالے سے متنازع ریمارکس شامل تھے۔
گذشتہ سال نومبر میں برطانیہ کے طبی ٹربیونل نے ڈاکٹر رحمہ کو 15 ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا، کیونکہ ان کی پوسٹس سے مریضوں اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد متاثر ہو سکتا تھا، خاص طور پر یہودی مریض علاج کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے تھے۔
ڈاکٹر رحمہ کی حراست پولیس کی حالیہ کارروائی کا حصہ ہے، جس میں ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر شامل ہے۔ وزارتِ صحت اب ایسے قوانین پر غور کر رہی ہے جن کے تحت سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شیئر کرنے والے ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جا سکیں۔
گرفتاری کے بعد ڈاکٹر رحمہ کو وسطی لندن کے ایک پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ جمعہ کو عدالت میں پیش ہوں گی۔









